ملکہ اور رحم دل بادشاہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر ایک رحم دل بادشاہ حکومت کرتا تھا،اس کی دو ملکہ تھیں۔چھوٹی ملکہ اس کی طرح رحم دل تھی اس کے تین بچے تھے،جب کہ بڑی ملکہ اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔بادشاہ چھوٹی ملکہ اور اس کے بچوں سے بہت پیار کرتا تھا،جس کی وجہ سے بڑی ملکہ چھوٹی ملکہ سے حسد کرتی تھی۔

ایک دن اس نے اپنی سوکن اور اس کے بچوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے سازش تیار کی جس کے لئے محل کے ایک ملازم کو بھی ساتھ ملا لیا۔ایک روز جب تینوں بچے باغ میں کھیل رہے تھے اور اس وقت وہاں ان کے سوا کوئی نہیں تھا۔ملازم بچوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آؤ میں تمہیں پورے باغ کی سیر کراتا ہوں۔

بچے بہت خوش ہوئے اور ملازم کے ساتھ چل دیئے۔وہ بچوں کو باغ کے دوسرے کونے میں لے گیا جو محل سے کافی فاصلے پر تھا۔وہاں اس نے پہلے ہی سے ایک بڑا گڑھا کھودا ہوا تھا۔جب بچے اس گڑھے کے پاس پہنچے تو ملازم نے تینوں کو اس میں دھکا دے کر اسے مٹی سے بھر دیا۔

بچوں کو زندہ دفنانے کے بعد محل میں واقع اپنے کوارٹر میں جا کر اس نے اپنا حلیہ ٹھیک کیا۔ایک گھنٹے بعد اسے بادشاہ کی رہائش سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں۔وہ محل میں پہنچا تو بادشاہ سمیت تمام درباریوں کو تینوں شہزادوں کی گمشدگی کی وجہ سے پریشان پایا،جب کہ چھوٹی ملکہ اس صدمے سے پاگل ہو گئی تھی۔

بادشاہ نے ملکہ کو بہ مشکل اس کے کمرے میں پہنچایا۔اسے پاگل پن کے دورے پڑنے لگے،وہ بادشاہ،سمیت جو بھی سامنے آتا،اسے مارنے دوڑتی۔
ایک روز اس نے بڑی ملکہ پر چھری سے حملہ کیا،ملازموں نے بڑی مشکل سے اسے قابو میں کرکے بڑی ملکہ کی جان بچائی۔
اس واقعے کے بعد بادشاہ نے ملازموں کو حکم دیا کہ وہ ملکہ کو محل سے باہر نکال کر کہیں دور چھوڑ آئیں،یوں چھوٹی ملکہ کو محل بدر کر دیا گیا۔وہ دن بھر شہر کی گلیوں میں گھومتی پھرتی،جب کہ بچے اس کے پیچھے پتھر لے کر دوڑتے۔رات کو وہ کسی مکان کے چبوترے پر سو جاتی۔

ایک روز وزیر باغ میں چہل قدمی کرتے ہوئے اس کے آخری حصے میں پہنچ گیا۔وہاں اس نے عجیب و غریب پودا دیکھا جس پر تین بہت ہی خوش نما پھول کھلے ہوئے تھے۔وہ اس کے قریب گیا،چاہتا تھا کہ ہاتھ بڑھا کر تینوں پھول توڑ لے کہ اسے پھولوں میں سے آواز سنائی دی،”تم ہمیں توڑنا چاہتے ہو،ہم اونچے ہوتے جائیں گے،کسی کے ہاتھ نہ آئیں گے،”بادشاہ سلامت آئیں گے تو ہم ان کے ہاتھ میں جائیں گے۔“ یہ سن کر وزیر دوڑا،دوڑا بادشاہ کے پاس گیا اور اسے پورا ماجرا سنایا۔

بادشاہ،اس کے ساتھ باغ میں آیا۔اسے بھی یہ تینوں پھول بہت پیارے لگے،اس نے اس سے قبل اس طرح کے پھول کبھی نہیں دیکھے تھے۔اس نے پودے کے پاس پہنچ کر پھول توڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ان میں سے آواز آئی،”ہم اونچے ہوتے جائیں گے،کسی کے ہاتھ نہ آئیں گے،بڑی ملکہ آئیں گی تو ہم ان کے پاس جائیں گے“۔
بادشاہ نے یہ سن کر وزیر کو حکم دیا کہ وہ فوراً بڑی ملکہ کو بلا کر لائے۔وزیر محل میں گیا اور ملکہ کے پاس جا کر اسے ساری بات بتائی اور اسے بادشاہ کے حکم کے بارے میں بھی بتایا۔بڑی ملکہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی کہ پھولوں نے اسے بلایا ہے۔

جب بڑی ملکہ پھولوں کے پاس گئی اور انہیں پکڑنے لگی تو پھولوں میں سے پھر آواز آئی،ہم اونچے ہوتے جائیں گے ہم کسی کے ہاتھ نہ آئیں گے،چھوٹی ملکہ آئیں گی تو ہم ان کے ہاتھ آئیں گے۔بادشاہ نے یہ سنا تو وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ چھوٹی ملکہ کو محل سے نکال دیا تھا۔

بادشاہ نے اپنے ملازمین کو بھیجا کہ وہ ملکہ کو ڈھونڈیں۔جلد ہی چھوٹی ملکہ مل گئی اور اسے باغ میں لایا گیا۔جیسے ہی چھوٹی ملکہ نے پھولوں کو ہاتھ لگایا تو وہ پھول بچوں میں تبدیل ہو گئے۔چھوٹی ملکہ اپنے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔
بادشاہ نے جب بچوں سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں ملازم یہاں لایا تھا اور اس نے ہمیں گڑھے میں پھینک کر زندہ دفنایا تھا۔اُسی وقت یہاں سے ایک پری گزر رہی تھی۔اس نے ہمیں پھول بنا دیا اور کہا کہ جب وزیر یہاں سے گزرے گا تو تم اسے یہ کہنا۔

یہ سن کر بادشاہ نے ملازم کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟اس نے بتایا کہ اسے یہ سب بڑی ملکہ نے کرنے کو کہا تھا۔یہ سنتے ہی بادشاہ نے حکم دیا کہ بڑی ملکہ اور ملازم کو اندھے کنویں میں ڈال دیا جائے،لیکن چھوٹی ملکہ نے بادشاہ کو ایسا کرنے سے منع کیا اور انھیں معاف کر دیا۔بادشاہ نے بھی انہیں معاف کر دیا،پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں