صبر کا پھل

فزا اور ایان دونوں بہن بھائی تھے۔ان کے امی ابو ٹرین حادثے میں فوت ہو گئے تھے،اس لئے وہ دونوں اپنی پھوپھو ثمینہ کے ساتھ رہتے تھے۔پھوپھی فزا سے سارے گھر کا کام کراتی تھیں۔یہ سب دیکھ کر ایان کو بہت دکھ ہوتا۔

وہ اپنے جیب خرچ سے جو چیز خریدتا اور رات کو اپنی بہن کے ساتھ کھاتا،کیونکہ پھوپھی فزا کو جیب خرچ نہیں دیتی تھیں۔وہ فزا کو اسکول بھی نہیں بھیجتی تھیں۔پھوپھا کا شہر سے باہر بڑا کاروبار تھا۔یوں ہی دن گزرتے گئے۔ایان اور فزا اب تھوڑے بڑے اور سمجھ دار ہو گئے تھے۔
معمول کے مطابق آج بھی ایان اپنی پھوپھو کے ساتھ بازار گیا تھا۔ایان کے پاس صرف پچاس روپے تھے۔اس نے ان پیسوں میں بہن کے لئے چوڑیاں خرید لی تھیں۔
پھوپھو اور ایان بازار گئے تب فزا گھر میں جھاڑو لگا رہی تھی کہ اسے پھوپھو کے کمرے میں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔

اس نے قریب پڑا ڈنڈا اُٹھایا اور آہستہ آہستہ پھوپھو کے کمرے کی طرف چل دی اور چھپ کر کھڑکی سے دیکھنے لگی۔ایک چور ہاتھ میں گٹھڑی اُٹھائے باہر کی طرف آ رہا تھا۔فزا یہ سب دیکھ کر دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔جیسے ہی چور باہر آیا فزا نے ڈنڈا گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔چور دھڑام سے گر پڑا۔اتنے میں گھنٹی کی آواز آئی۔

فزا نے جب دروازہ کھولا تو اس کی پھوپھو سامنے کھڑی تھیں۔اس نے سارا ماجرا سنایا۔پھوپھو نے بچوں کے ساتھ مل کر چور کو رسیوں سے باندھ دیا اور پولیس کو فون کیا۔پولیس آکر چور کو لے گئی۔پھوپھو کو احساس ہوا کہ جو بچی ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اس بچی نے آج ان کے لئے اتنا کچھ کیا ہے۔یہ سوچ کر پھوپھو نادم ہو گئیں۔اب وہ ایان کی طرح فزا سے بھی اچھا سلوک کرنے لگیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں