سنہری تھیلی

اسے ایک سنہری تھیلی دی کہ اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھنا،جب کوئی مسئلہ ہو تو سچے دل سے دعا کرنا اور اس میں سے ایک بیج نکال کر زمین میں دبا دینا

قصبے سے دور پہاڑی علاقے میں عاقل نامی لڑکا اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔گیارہ سالہ عاقل پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔اس کے والد پہاڑوں کو توڑ کر پتھر ملک کے مختلف حصوں میں بھیجنے والے ٹھیکے دار کے ساتھ کام کرتے تھے اور امی عورتوں کے لئے سلائی کڑھائی کرتیں اور یوں ان کی گزر بسر ہوتی۔

پڑھائی سے فارغ ہو کر عاقل اپنی امی کا ہاتھ بٹاتا تھا۔وہ سلائی اور کڑھائی کیے ہوئے کپڑے ماں کے بتانے پر خواتین کے گھروں میں پہنچا آتا۔اس کی امی کو باہر بھی نہ جانا پڑتا اور وقت کی بچت بھی ہو جاتی۔جو سامان ماں کو چاہیے ہوتا باہر سے وہ بھی خرید لاتا۔
ایک روز اسے کسی خاتون کے کپڑے دینے جانا پڑا،جن کا گھر کافی دور تھا۔جب وہ کپڑے دے کر واپسی کے لئے مڑا تو شام ہونے والی تھی۔

ناہموار سنسان پہاڑی راستے پر وہ چلا آرہا تھا کہ اسے کسی کے کراہنے کی آواز سنائی دی۔اسے محسوس ہوا کہ آواز بڑے پتھر کے پاس سے آرہی ہے۔

”کون ہے؟“کہتا وہ پتھر کے قریب پہنچا تو وہاں اپنے برابر ایک بہت خوب صورت بچے کو دیکھا جو اپنا پیر پکڑے کراہ رہا تھا۔اس کے پاؤں میں نوکیلا کانٹا چبھا تھا جس کی وجہ سے پاؤں میں سوجن ہو رہی تھی اور خون بھی رس رہا تھا۔

”تم کون ہو؟یہاں کیسے آئے،یہ کانٹا کیسے چبھا؟“اسے دیکھتے ہی عاقل نے حیرانی سے کئی سوال پوچھ ڈالے۔
”بہت تکلیف ہو رہی ہے،کانٹا نکالنے کی ہمت بھی نہیں۔کیا تم میری مدد کرو گے؟“بچے نے مدد مانگی تو وہ سر ہلاتے ہوئے اس کے پاؤں کے پاس جھکا۔

”ارے وہ دیکھو،کتنا خوب صورت پتھر ہے۔“عاقل نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جیسے ہی بچے نے اُدھر دیکھا،عاقل نے جھٹ سے کانٹا نکال دیا۔
”ارے کانٹا نکل گیا،میں ڈر رہا تھا کہ بہت تکلیف ہو گی،مگر تم نے تو کمال کر دیا۔
“بچے نے خوشی سے کہا۔عاقل مسکرایا اور اپنی کلائی پر لپیٹا رومال پھاڑ کر اس کے پاؤں میں پٹی بھی باندھ دی۔
”بہت شکریہ دوست!میں تمہارا احسان مند رہوں گا۔شام ڈھل رہی ہے،اب ہمیں اپنے گھر جانا چاہیے۔“
”ٹھیک ہے،مگر تمہارا گھر کہاں ہے؟تم نے اپنا نام بھی نہیں بتایا۔

”میرا نام بنٹو ہے اور جنگل کے اُس پار ہمارا گھر ہے۔“بنٹو آہستگی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ ہلائے ہوئے مخالف سمت چلنے لگا۔عاقل بھی تیزی سے اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔گھر پہنچا تو امی کو پریشان پایا۔انھوں نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو عاقل نے سب سچ سچ بتا دیا۔
جس پر امی نے اسے بہت شاباشی دی۔
عاقل کے ابو رات میں تھکے ہارے گھر آئے تو بہت پریشان تھے۔بیوی کے پوچھنے پر وہ بولے کہ ٹھیکے دار عام پتھر بیچنے کی آڑ میں غیر قانونی طور پر قیمتی پتھر اسمگل کرتا تھا۔وہ پکڑا گیا اور کام کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔
اب پتا نہیں گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔
دن گزرتے گئے۔سلائی کڑھائی سے کی گئی جمع پونجی ختم ہو چکی تھی۔اس روز ان کے گھر راشن نہیں تھا اور اتنے پیسے بھی نہیں کہ کچھ خریدا جا سکے ۔عاقل کی امی نے اسے کڑھائی والا کُرتا دیا کہ انہی خاتون کے گھر دے آؤ،تاکہ جو پیسے ملیں اس سے کھانے کا بندوبست ہو سکے۔

جب وہ کپڑے پہنچا کر آرہا تھا تو اسے بنٹو نظر آیا۔دونوں دوست باتیں کرنے لگے۔بنٹو نے پریشانی کی وجہ پوچھی۔پھر اسے ایک سنہری تھیلی دی کہ اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھنا،جب کوئی مسئلہ ہو تو سچے دل سے دعا کرنا اور اس میں سے ایک بیج نکال کر زمین میں دبا دینا۔

عاقل گھر پہنچا ماں کو پیسے دیے۔ابو دکان سے بن لے آئے اور انھوں نے شکر ادا کرکے بھوک کی شدت کم کی۔رات میں سونے سے پہلے عاقل نے دعا کی اور پھر تھیلی میں سے ایک چھوٹا سا بیج نکا ل کر گھر کے پچھلے حصے کی مٹی میں دبا دیا۔
اگلی صبح وہ دروازے پر تیز دستک سے جاگے۔

”کون ہے؟“عاقل کے ابو نے پوچھا اور دروازے پر کھڑے اپنے ایک دوست کو دیکھ کر خوش ہوئے۔
”ایک بڑی کمپنی نے پہاڑوں کی کھدائی کا حکومت سے معاہدہ کیا ہے۔وہاں کے لوگوں نے تمہاری ایمانداری سے متاثر ہو کر تمہیں انچارج بنانے کے لئے کمپنی کے نمائندے سے کہہ دیا ہے۔
میرے ساتھ چلو،انھوں نے تمہیں بلایا ہے۔“دوست کے بتانے پر وہ کھل اُٹھے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔عاقل اور اس کی امی بہت خوش ہوئے۔عاقل بھاگ کر گھر کے پچھلے حصے میں گیا اور وہاں ایک چھوٹا سا پودا لہلہاتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔

ایک روز اس نے دعا مانگی کہ ماں کے کام میں برکت ہو اور پھر بیج بو دیا۔اگلے روز اس بیج سے بھی پودا نکل آیا۔عاقل جب بھی کپڑے دینے پہاڑی پر جاتا تو واپسی پر وہاں ضرور رکتا،جہاں بنٹو سے ملاقات ہوئی تھی،مگر بنٹو نہ ملا۔وقت گزرنے کے ساتھ عاقل کے گھریلو حالات بہت بدل گئے تھے۔
اس نے سنہری تھیلی اور اس میں موجود بیج بہت سنبھال کر رکھے۔
وہ بنٹو کو کبھی نہیں بھولا تھا۔ایک رات اس نے ایک انوکھی خواہش کی اور بیج بو دیا۔
اگلے روز اپنے گھر میں بنٹو اور اس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت خاتون کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور بھاگ کر ان کے پاس گیا۔

”تم کہاں کھو گئے تھے بنٹو!اتنے مہینے گزر گئے،مگر تم سے ملاقات نہیں ہوئی۔“
”ہم یہاں سے چلے گئے تھے۔“بنٹو مسکرایا۔
”کہاں چلے گئے،بتایا کیوں نہیں؟“
”تمہاری نیکی اور رحم دلی سے متاثر ہو کر بنٹو تمہارا دوست بنا اور تمہیں جادوئی سنہری تھیلی اور بیج دیے۔
ہم انسان دوست ہیں،مگر عام انسانوں کے سامنے نہیں آتے۔اس وقت تمہاری خواہش پر ہمیں تم سے ملنے آنا پڑا۔“خاتون نے کہا تو وہ سب چونکے۔
”امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔تم محنتی،اچھے اور رحم دل انسان ہو۔تم نے میری مدد کی اور میں نے تمہاری۔
اگر تم ایسی خواہش کرتے جو بُری ہوتی تو پودا نہ اُگتا اور نہ کبھی خواہش پوری ہوتی۔تمہاری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم تم سے ملنے پرستان سے آئے ہیں۔“
”تو کک․․․․کیا آپ؟“عاقل نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
”ہاں ہم انسان نہیں،میں پری زاد ہوں اور امی ملکہ پری ہیں۔
“ان کی بات سن کر عاقل بھونچکارہ گیا۔
”اب ہمیں جانا ہو گا۔ہمیشہ اچھے کام کرنا،جھوٹ سے بچنا اور دوسروں کی مدد کرتے رہنا ورنہ سنہری تھیلی اور بیج غائب ہو جائیں گے۔اچھا دوست خدا حافظ!“بنٹو نے کہا اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں غائب ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں