بہادر بہن

جب ہم باہر کوئی چیز لینے جائیں یا ٹیوشن جائیں اور راستے میں کوئی اجنبی شخص آپ کو روک کر کھانے پینے،سیر کرنے یا کسی بھی قسم کا لالچ دے تو آپ اُس کی باتوں کی طرف دھیان مت دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے اپنی منزل یعنی دکان یا ٹیوشن کیلئے سیدھا جائیں اور سیدھا واپس گھر آئیں

”دادا جان آج پھر دو دن پہلے والی کہانی سنائیں“ سلمان نے دادا جان سے فرمائش کی۔ساتھ بیٹھی غانیہ نے بھی اس کی پُرزور تائید کی۔دادا جان نے اپنی گال پر ہاتھ رکھا اور سوچنے کی کوشش کی کہ آخر کون سی کہانی اُنہوں نے دو دن پہلے سنائی تھی۔

غانیہ نے دادا جان کو سوچ میں پڑتا دیکھ کر فوراً بتایا:”دادا جان جس میں پیچھے مڑ کر دیکھنے والا ہر انسان پتھر بن جاتا تھا“۔اچانک دادا جان مسکرائے اور پاس بیٹھے سلمان اور غانیہ کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہانی سنانا شروع کر دی۔

کہتے ہیں ایک گاؤں میں ایک بہن اور دو بھائی رہتے تھے۔تینوں بہن بھائی بہت بہادر تھے۔بادشاہ کو اُن کے بارے میں معلوم ہوا تو اُنہیں اپنے دربار میں طلب کیا۔بادشاہ نے اُنہیں بتایا کہ اُسے ایک جادوئی طوطا مطلوب ہے کیونکہ اگر وہ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تو ریاست کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

چنانچہ غلط ہاتھوں میں لگنے سے پہلے ہی ہم جادوئی طوطے کا کوئی بندوبست کرنا چاہتے ہیں۔بادشاہ کے وزیر نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ طوطا ایک گھنے جنگل میں پہاڑ پر رہتا ہے لیکن اُس جادوئی طوطے تک پہنچنے کا راستہ بہت پُر خطر ہے۔
آج تک جو بھی اُس راستے پر گیا،کبھی واپس نہیں لوٹا۔تینوں نے وجہ دریافت کی تو وزیر نے بتایا کہ جوں جوں طوطے کیلئے جنگل کے پہاڑ پر چڑھتے جاؤ،پیچھے سے خوفناک آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں ،کبھی ایسی آوازیں آتی ہیں جس میں لالچ دیا جا رہا ہو گا کہ اگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے تو جو وہ مانگے گا،وہ ملے گا۔

وزیر نے کہا کہ وہ سب دھوکہ اور فریب ہوتا ہے لیکن جو خوف لالچ میں مڑ کر دیکھ لیتا ہے،فوراً پتھر کا بن جاتا ہے۔بادشاہ نے فیصلہ اُن تینوں بہن بھائیوں پر چھوڑ دیا۔تینوں کو بادشاہ کی نیک نیتی پسند آئی۔چنانچہ اُنہوں نے بادشاہ کی مدد کرنے کی حامی بھر لی اور ارادہ کیا کہ اُن میں سے کوئی ایک جادوئی طوطے کی کھوج میں جائے گا۔

باقی پیچھے کام سنبھالیں گے۔ایسے میں سب سے بڑا بھائی تیار ہو گیا۔باقی دونوں بہن بھائی نے بڑے بھائی کو فریب اور دھوکہ دہی والی آوازوں کو نظر انداز کرنے کی یاد دہانی کرائی۔ہفتہ ہو چلا تھا لیکن بڑے بھائی کی خبر نہ آئی۔

وہ سمجھ گئے کہ بڑا بھائی مصیبت میں گرفتار ہو چکا ہے ایسے ہی دوسرے بھائی نے بھی ارادہ سفر باندھا اور منزل کی طرف بڑھ گیا لیکن وہ بھی واپس نہ لوٹا۔اب چھوٹی نے سوچا وہ اپنے بھائیوں کو مصیبت سے نجات بھی دلائے گی اور جادوئی طوطا بھی لائے گی۔
جنگل کا ماحول اُسے بہت پُراسرار محسوس ہوا مگر وہ اللہ کا نام لے کر پہاڑ پر چڑھنے لگی۔راستے میں اُس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہونے لگا جو اس سے پہلے آنے والوں کے ساتھ ہوا تھا۔پہلے تو اُسے بہت خوفناک آوازیں سنائی دیں پھر لالچ کی کہ اگر وہ مڑ کر دیکھے گی تو اُس کے بھائی اُسے مل جائیں گے اور وہ جو مانگے گی ملے گا مگر وہ جانتی تھی کہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

ان آوازوں کو نظر انداز کرتی اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہوئی وہ پہاڑ پر چڑھتی گئی اور آخرکار اپنی منزل تک پہنچ گئی۔جادوئی طوطا پکڑتے ہی فضا میں ہر طرف دھواں پھیل گیا۔اب سب آزاد تھے،چھوٹی کے بھائی خوشی سے اُس کی جانب لپکے۔
باقی سب لوگوں نے بھی اُس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے گھروں کی راہ لی۔تینوں بہن بھائیوں نے بادشاہ کو وہ جادوئی طوطا دے دیا اور سلطنت کے لوگ کسی بڑی آفت سے بچ جانے پر بہت شکر گزار ہوئے اور ہنسی خوشی رہنے لگے۔یوں دادا جان نے مسکراہٹ کے ساتھ کہانی کا اختتام کیا۔

غانیہ کہانی سن کر بہت خوش ہوئی لیکن اس بار سلمان نے سوچتے ہوئے سوال کیا”دادا جان ہمیں اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے؟“
دادا جان نے پہلے کچھ سوچا اور پھر جواب دیا:”میرے پیارے بچو اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب ہم باہر کوئی چیز لینے جائیں یا ٹیوشن جائیں اور راستے میں کوئی اجنبی شخص آپ کو روک کر کھانے پینے،سیر کرنے یا کسی بھی قسم کا لالچ دے تو آپ اُس کی باتوں کی طرف دھیان مت دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے اپنی منزل یعنی دکان یا ٹیوشن کیلئے سیدھا جائیں اور سیدھا واپس گھر آئیں کیونکہ اُس انجان شخص کی ساری باتیں جھوٹ اور فریب ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں