واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی تبدیل ، صارفین کا کون سا ڈیٹا محفوظ نہیں ہے؟

واٹس ایپ کی نئی متنازعہ پالیسی نے سوشل میڈیا صارفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ صارفین کا ڈیٹا رسک پر آگیا۔
صارفین کا نام، فون نمبر اور لوکیشن غیرمحفوظ ہوگئی۔ آئی پی ایڈریس اورموبائل نیٹ ورک بھی اب تھرڈ پارٹی کے ریڈار پر ہوگا۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر، ٹائم زون، فون ماڈل تک غیر محفوظ ہونگے۔

آپریٹنگ سسٹم، بیٹری کا پسنٹیج، سگنلز کی طاقت بھی کوئی دیکھ رہا ہوگا۔ فون کے آئی ایم ای آئی کی تفصیلات تک کمپنی کو رسائی ہوگی۔ اسٹیٹس پر رکھی جانے والی معلومات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔

نئی پالیسی کے تحت فیس بک مالی مفادات کے تحت صارفین کا ڈیٹا استعمال کرسکے گا۔ سوشل میڈیا صارفین کی پرائیویسی شدید متاثر ہوگی۔ صارف کے وصول اور ارسال کردہ پیغامات بھی تھرڈ پارٹی تحت استعمال کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اس سارے عمل میں واٹس ایپ کا دہرا معیار بھی سامنے آگیا، پالیسی کا اطلاق یورپی یونین پر نہیں کیا جائے گا۔
8 فروری تک نئی پالیسی کو قبول نہ کرنے پر اکاؤنٹ ختم کردیا جائے گا۔ واٹس ایپ نے اپنے 2 ارب صارفین کو خبردار کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں