ڈاکٹر ماہا علی نے خود کشی کی تھی یا قتل تھا ، ایک نیا رُخ سامنے آ گیا

ڈاکٹر ماہا علی نے خود کشی کی تھی یا قتل ، ایک نیا رُخ سامنے آ گیا

پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی اور انکے والد کے درمیان لڑائی ہوئی تھی جس کے بعد اس نے خود کو گولی مارلی۔ لیکن اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب یہ انکشاف ہو کہ نوجوان لڑکی ماہا علی کے سر کے پیچھے گولی لگی۔

تفتیش کرنیوالی ٹیم نے یہ بتایا کہ خودکشی کرنے والا شخص سر کے پیچھے گولی نہیں مار سکتا۔پولیس نے نئے زاوئیے پر تفتیش شروع کر دی اور ڈاکٹر ماہا کے فیملی ممبرز، دوستوں اور کولیگز سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ڈاکٹر کا موبائل فون کا ڈیٹا بھی لیا جائے گا جس سے کچھ مدد مل سکے گی۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کے سر میں پیچھے سے گولی لگی ہے جبکہ خودکشی کرنے والے ماتھے یا کنپٹی میں گولی مارتے ہیں۔پستول پیچھے لے جاکر گولی چلانا بہت مشکل ہےبالخصوص ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے کبھی اسلحہ کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔

ڈاکٹر ماہا علی کی لاش آبائی گاؤں میر پور خاص بھجوا دی گئی ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ ہے مبینہ خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا کی اپنے والد سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ڈاکٹر ماہا ایک عرصے سے گھریلو پریشانی کا شکار تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں