سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوں گے.

سپریم کورٹ نے پیر کے روز سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لئے انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوں گے۔

4-1 اکثریت والی رائے کا اعلان چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیا اور جس میں جسٹس مشیر عالم ، جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات قانون اور آئین کے مطابق ہوتے ہیں۔

عدالت عظمی نے تجویز پیش کی کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو لازمی ہے کہ وہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے ٹکنالوجی کے استعمال سمیت تمام دستیاب اقدامات اٹھائے جس سے یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ انتخابات ‘دیانتداری ، انصاف ، منصفانہ اور قانون کے مطابق چلائے جائیں اور بدعنوانیوں کے خلاف حفاظت کی جاے.

اپنا تبصرہ بھیجیں