گردوں کے امراض اور ان سے بچاؤ .

گردوں کے امراض اور ان سے بچاؤ .

گردوں کے امراض کی شرح میں حالیہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گردے خون میں موجود اضافی سیال اور کچرے کو فلٹر کرتے ہیں اور ان کے افعال متاثر ہونے پر یہ کچرا جمع ہونے لگتا ہے۔گردوں کے امراض کے شکار افراد میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
گردوں کے امراض کی علامات اکثر افراد نظر انداز کر دیتے ہیں اور جب تک توجہ دیتے ہیں،اس وقت تک جسم کو بہت نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔پاکستان میں اس حوالے سے مستند اعداد و شمار تو دستیاب نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

چند عام چیزوں سے آپ گردوں کے تکلیف دہ امراض سے خود کو بچا سکتے ہیں،جو درج ذیل ہیں۔

مخصوص ادویات کا زیادہ استعمال مت کریں
ورم کش ادویات کا بہت زیادہ استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر ان ادویات کا استعمال بھی گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے،تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ان ادویات کا استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اینٹی بائیوٹکس بھی نقصان دہ
بیکٹیریا سے لڑنے والی ادویات بھی گردوں کو اس صورت میں نقصان پہنچا سکتی ہے جب ان کا زیادہ استعمال کیا جائے،ایسا اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب آپ کی صحت مثالی ہو،بلکہ زیادہ سنگین ہونے پر گردوں کے افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔

ہربل سپلیمنٹس سے بچیں
یہ سپلیمنٹ بھی گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،یہ اس صورت میں زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں جب آپ پہلے ہی گردوں کے امراض کا شکار ہوں،کیونکہ اس سے حالت زیادہ بدتر یا ادویات کے اثر کو متاثر کر سکتے ہیں۔کسی بھی ہربل سپلیمنٹ کو استعمال کرنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
صحت بخش غذا
آپ جو کچھ بھی کھاتے یا پیتے ہیں،گردے ان کو پراسیسر کرتے ہیں،اس میں وہ سب کچھ بھی شامل ہے جو نقصان دہ ہو سکتا ہے جیسے بہت زیادہ چربی،نمک اور چینی۔
وقت کے ساتھ نقصان دہ غذا ہائی بلڈ پریشر،موٹاپے،ذیابیطس اور دیگر امراض بھی گردوں کے افعال کو مشکل بنا دیتے ہیں۔اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا جیسے سبزیاں،پھلوں اور اجناس کا زیادہ استعمال اور کم پراسیس غذائیں گردوں کی صحت کو مستحکم رکھتی ہے۔
نمک کی مقدار پر توجہ دیں
نمک لوگوں پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے،کچھ لوگوں میں اس کی زیادہ مقدار سے پیشاب میں پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے،جو کہ گردوں کے لئے نقصان دہ یا گردوں کے امراض کو زیادہ بدتر بنا سکتا ہے۔
بہت زیادہ نمک ہائی بلڈ پریشر کا امکان بھی بڑھاتا ہے،جو کہ گردوں کے امراض کی ایک عام وجہ ہے اور گردوں کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
مناسب مقدار میں پانی پینا مت بھولیں
پانی گردوں کے لئے بہت اہم ہے اور یہ کچرے کو پیشاب کی شکل میں مثانے کی جانب دھکیلتا ہے،اگر پانی کم پیا جائے تو گردوں کے اندر موجود ننھے فلٹرز کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں،جس سے گردوں میں پتھری اور انفیکشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
در حقیقت پانی کی معمولی کمی بھی گردوں کو اس صورت میں نقصان پہنچا سکتی ہے جب اکثر آپ پانی کم پینا عادت بنا لیں۔روزانہ موسم کو مدنظر رکھ کر 4 سے 6 گلاس پانی پینا ٹھیک رہتا ہے،تاہم بیماری کی صورت یا موسم گرم ہونے پر جسم کو زیادہ پانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ورزش
صحت بخش غذا کی طرح ورزش بھی ذیابیطس اور امراض قلب جیسے مسائل سے بچانے میں مدد دیتی ہے جو کہ گردوں کو نقصان پہنچانے والے عوامل ہیں۔
مگر اچانک ہی سست طرز زندگی کو چھوڑ کر بہت زیادہ ورزش کرنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے،کیونکہ اگر جسم اس جسمانی مشقت کے لئے تیار نہ ہو تو گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔آسان حل تو یہ ہے کہ ہفتے میں کم از کم 5 دن 30 سے 60 منٹ تک ورزش کریں،اگر کافی عرصے سے ورزش نہیں کر رہے تو آسان ورزشوں سے آغاز کریں اور کسی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے پہلے مشورہ کر لیں۔

معائنہ کرائیں
گردوں کے امراض کے خطرے کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہوتا ہے،اگر آپ یا کسی قریبی رشتے دار میں امراض قلب،ہائی بلڈ پریشر،ذیابیطس یا گردے فیل ہونے کی خاندانی تاریخ ہے،تو اکثر طبی معائنہ معمول بنانا گردوں کے امراض کو آغاز میں ہی پکڑنے میں مدد دے سکتا ہے،جتنی جلد ان امراض کی تشخیص ہو گی،اتنی آسانی سے ان کا علاج بھی ہو جائے گا بلکہ روک تھام بھی ممکن ہے۔

تمباکو نوشی ترک کر دیں
تمباکو نوشی سے گردوں کے کینسر اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھتا ہے،جس سے خون کی گردش سست ہونے سے گردے متاثر ہو سکتے ہیں،تمباکو نوشی ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لئے ہونے والی مخصوص ادویات کے اثر کو بھی متاثر کرتی ہے،یہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں ناکامی گردوں کے امراض کی بنیادی وجہ ہے۔

طبی مسائل پر قابو پائیں
سب سے عام امراض جو گردوں پر اثر انداز ہوتے ہیں،وہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر ہے،متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا ان دونوں بیماریوں کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے،ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بلڈ شوگر پر گہری نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر انسولین کا استعمال کریں۔ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اکثر اپنا چیک اپ کرانا چاہیے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کو وقت پر ضرور لیں۔

الکحل جان لیوا ہو سکتی ہے
الکحل کی عادت جسم میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہے،جس سے گردوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں جبکہ جسمانی وزن میں اضافے،جگر کے امراض،ہائی بلڈ پریشر اور دیگر متعدد امراض سے بھی گردوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں