موسمِ سرما میں شیر خوار کا خیال رکھیں.

قدرت نے ہمیں مختلف موسموں کا تحفہ دیا ہے۔یوں تو سارے موسم ہی انسان کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں،مگر خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے،وہ بچوں کی صحت ہے۔اس موسم میں پرہیز اور احتیاط کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کے بجائے قدرت کی فیاضیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

اکثر گھروں میں جاڑوں کی آمد کے ساتھ ہی ایک خوف سا طاری ہو جاتا ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ سردیاں اپنے ساتھ نزلہ زکام،کھانسی،بخار،نمونیا اور دوسری بیماریاں لے کر آتی ہیں۔یہ بات کسی حد تک درست ہے،تاہم اگر اپنے معمولات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کئی بیماریوں کو تو ہماری بے احتیاطی دعوت دیتی ہے،اس لئے ہمیں اپنی بے قاعدگیوں اور بے اعتدالیوں پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ جاڑوں میں چھوٹے بچے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔وہ سویٹر نہیں پہنتے،جرابیں اُتار کر پھینک دیتے ہیں،انھیں ٹھنڈا پانی یا مشروب پینا مرغوب ہوتا ہے۔اس معاملے میں والدین کو مکمل طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اسکول جانے والے بچوں کو گرم سویٹر،اونی جرابیں اور اسکارف ضرور پہنائیں،تاکہ وہ صبح کی ٹھنڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
انھیں گھر سے ٹفن میں کھانے پینے کی اشیاء اور تھرماس میں صاف اُبلا ہوا پانی دیں،تاکہ وہ بازاری چیزیں نہ کھائیں۔اس موسم میں بیماریوں کے وائرس پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے،خاص طور پر نزلہ زکام،گلے کی خرابی اور بخار وغیرہ۔بچے کے بیمار ہو جانے کی صورت میں گھریلو ٹوٹکے آزمانے کے بجائے اس کا صحیح طریقے سے علاج کروایا جائے تو وہ صحت مند رہے گا۔
اس دوران ریفریجریٹر کے یخ پانی سے پرہیز کرکے کان،گلے اور ناک کی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
جاڑوں کے شروع ہوتے ہی فضا کی قدرتی نمی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔خشک موسم کی وجہ سے بچوں کی حساس جلد متاثر ہوتی ہے،نہ صرف چہرے،بلکہ ان کے ہاتھوں اور پیروں کی جلد بھی اس موسم میں پھٹ جاتی ہے،اس لئے سونے سے قبل ان کے ہاتھ پیروں اور چہرے پر زیتون کا تیل،پٹرولیم جیلی یا موئسچرائزنگ کریم لگا دی جائے۔
سردیوں میں ہیٹر اور تیز گرم پانی کے استعمال سے بھی جلد مزید خشک ہو جاتی ہے۔اگر ابتداء سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے،ورنہ سرد اور خشک ہوائیں بچوں کو بیمار کر سکتی ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو ہلکی پھلکی ورزش بھی کرائیں،تاکہ انھیں اس موسم میں حرارت محسوس ہو۔ایسے موسم میں صبح کی سیر یا ورزش کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

جاڑوں کی ابتداء ہوتے ہی شیر خواروں کی صحت کے حوالے سے خاص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ان بچوں کو لپیٹ کر رکھنا چاہیے،جن کی پہلی سردی ہو۔
سردی شروع ہوتے ہی شیر خواروں کو گرمی پہنچانے کے لئے خاندان کی بڑی بوڑھیاں ان کی مالش پر زور دینے لگتی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ سردیوں میں گرمی پہنچانے کا یہ عمل کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔یہ بچے کی صحت کے لئے پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے۔
مالش کے بعد بچے کو پُرسکون نیند آ جاتی ہے،اس عمل کو لگاتار کرنے سے دو فربہ ہوتا ہے اور اس کی ہڈیاں بھی مضبوط ہو جاتی ہیں۔دن میں یا رات کو سونے سے قبل سرسوں،زیتون کے تیل یا کسی اچھے بے بی آئل سے مالش کی جائے تو مناسب ہے،خاص طور پر بچے کو صبح کی دھوپ میں لٹا کر مساج کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔اس بات کا دھیان رکھیے کہ بچے کا دھڑ دھوپ میں،مگر چہرہ سائے میں ہو۔

مالش کے لئے ایک کپڑا مخصوص کر لیا جائے تو اچھا ہے،تاکہ تیل کے دھبے اسی پر لگیں۔دو تین دن بعد اس کپڑے کو بھی دھو لیں،تاکہ وہ صاف ہو جائے۔
بچے کو مالش کرنے سے قبل اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لیں۔مالش صاف ہاتھوں سے کرنی چاہیے۔اس بات کا دھیان رکھیں کہ چھوٹا بچہ بہت جلد بیماریوں کا نشانہ بن جاتا ہے،اس لئے خود کی صفائی بھی اہم ہے۔
نوزائیدہ کو موسم سرما میں روزانہ نہانے سے اجتناب برتیں،تاہم ہفتے میں ایک بار ضرور نہلائیں،تاکہ اسے شروع ہی سے صاف ستھرا رہنے کی عادت ہو جائے۔
جب یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہوں تو نیم گرم پانی میں تولیا بھگو کر بچے کا جسم صاف کیا جا سکتا ہے۔اگر نہلانا مقصود ہو تو نیم گرم پانی سے کسی بند جگہ پر نہلائیں،ورنہ ٹھنڈی ہوا سے نزلے اور بخار میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔نہانے کے بعد بچے کو فوراً تولیے میں لپیٹ کر اس کا جسم اچھی طرح خشک کریں۔آنکھیں اور ناک نیم گرم پانی سے روئی گیلی کرکے صاف کر دیں۔
پھر کوئی اچھا سا بے بی لوشن لگائیں۔اس طرح سردیوں کی وجہ سے ہونے والی خشکی اور خارش کا خاتمہ ہو جائے گا اور بچے کی جلد بھی ملائم رہے گی۔جب زیادہ سردی ہو تو بچوں کو نہلانے کے بعد شہد چٹانا مفید ہوتا ہے۔
شیر خوار کو ماں اپنے ساتھ سلائے،تاکہ اسے حرارت ملتی رہے۔بچے کے گیلے کپڑے جلد بدل دیں،ورنہ رات بھر بھیگے رہنے کی وجہ سے اس کا سینہ جکڑ سکتا ہے اور بچے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو گا۔
جب اس کی نیند پوری نہیں ہو گی تو وہ دن بھر چڑچڑے پن کا شکار رہے گا۔
مذکورہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے موسم سرما ہمارے لئے خوشگوار ثابت ہو گا۔بدلتے موسموں کے ساتھ اپنے رہن سہن اور معمولات میں تبدیلیاں لانا ضروری ہوتا ہے،صرف اسی طرح ہم اس موسم سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں