پُرسکون نیند بچوں کی نشوونما کے لئے ضروری ہے.

بچے کی نشوونما کے لئے نیند بے حد ضروری ہے جو بچے کم سوتے ہیں وہ دبلے پتلے معلوم ہوتے ہیں۔ہر وقت سست رہتے ہیں یا روتے رہتے ہیں۔ایسے بچوں کی بھوک ٹھیک ہوتی ہے اور غذا بھی صحیح اور وقت مقررہ پر دی جاتی ہے۔انہیں قبض اور بدہضمی کی شکایت بھی نہیں ہوتی ہے۔ان میں سستی کی وجہ نیند کی کمی ہے۔جو بچہ زیادہ سوتا ہے وہ زیادہ تندرست رہتا ہے۔

نیند کی کمی کی کئی وجوہات ہیں مثلاً بستر آرام دہ نہیں ہے یا اس کو غذا صحیح نہیں دی جا رہی یا زیادہ غذا دی جاتی ہے یا کم غذا دی جاتی ہے یا اسے شروع سے یہ عادت ڈال دی گئی ہے کہ جہاں وہ سوتا ہو وہاں ذرا سا بھی شوروغل نہ ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں ذرا سا شوروغل ہوا بچے کی آنکھ کھل گئی۔

شروع ہی سے خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کو ایسی عادت ڈالی جائے کہ وہ معمولی شوروغل میں سوتا رہے۔

اس عادت سے ماں اور بچے دونوں کو آرام ملے گا۔بچے کو سلانے کے لئے گھر میں لے کر ٹہلنے کی عادت بھی درست نہیں ہے۔اگر شروع ہی سے اسے عادت پڑ گئی تو بچہ تین سال کی عمر تک پریشان کرے گا۔
اگر شروع ہی سے اسے عادت ڈالیں کہ وقت پر بستر پر لیٹے لیٹے خود سو جایا کرے تو وہ خود اپنے وقت پر سو جایا کرے گا۔
پیدائش کے فوراً بعد سے ناصرف سلانے کے لئے بلکہ ویسے بھی شیرخوار بچے سے کھیلنے یا جاگنے میں اس کو لیٹے رہنے دیا جائے جہاں تک ہو سکے گود میں کم سے کم لیا جائے۔
بغیر گود میں لیے اسے پیار کریں گود کی عادت نہ ڈالیں۔

دو تین سال کی عمر کے بچوں کے اوقات کھانا کھانے کے ایسے مقرر کیے جائیں کہ ان کی نیند کے وقت سے کھانا انہیں ایک یا دو گھنٹے پہلے مل جائے ایسا کرنے سے وہ چل پھر کر کھانا ہضم کر لیں گے اور کھانا کھاتے ہی نہیں سوئیں گے بصورت دیگر قبض یا بدہضمی ہو جائے گی یا رات کو بچہ سوتے میں بے چینی محسوس کرے گا۔
رات کو سوتے وقت کا دودھ بعض بڑے بچوں کو ہضم ہو جاتا ہے اور بعض کو نہیں۔
بچے کا نیند کا وقت اس طرح مقرر کریں کہ وہ رات جلدی ہی سو جایا کرے اور بھرپور نیند کے بعد وقت پر جاگے۔
تین سال کے بچے کو بھی دن بھر میں تھوڑی دیر کے لئے ضرور سونا چاہیے۔
اگر بچے کی نیند غیر معمولی ہو یا جاگنے کے بعد بھی فوراً پھر سو جائے یا بہت زیادہ دیر تک سوتا رہے یا سونے میں بے قاعدگی سے سانس لے یا آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جائیں اور چہرے کا رنگ پیلا پڑ جائے،ہضم میں خلل ہو یا رفع حاجت خشک ہو یا بھوک کم ہو یا نڈھال ہوتا جائے تو فوراً معالج سے رجوع کیا جائے۔

یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کہ دوا کھلانے کے لئے یا کسی اور بات کے لئے بچے کو سوتے سے جگایا جائے کیونکہ کچی نیند میں جاگا ہوا بچہ دیر تک روتا رہتا ہے۔اگر دودھ کا وقت ہو گیا ہے اور بچہ سو رہا ہے تو تھوڑی دیر ٹھہر جانا بہتر ہے۔
بعض مائیں یہ خیال کر لیتی ہیں کہ چونکہ بچے کے باپ دادا کم سوتے ہیں یا دیر میں سوتے ہیں اس لئے یہ خاندانی بات ہے کہ بچہ بھی کم سوتا ہے۔یہ خیال غلط ہے بچے کو پوری رات بھر اور دن میں ایک دو گھنٹہ ضرور پُرسکون نیند سونا چاہیے۔

بچے کے لئے ماحول
بچے گھر کے ماحول کا بہت اثر لیتے ہیں۔انہیں اچھا ماحول مہیا کرنا ماں باپ کا فرض ہے۔بچے کی تعلیم و تربیت میں گھر کے ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ دو تین سال کی عمر میں بچے کو جو ماحول ملتا ہے اور جو عادتیں اپناتا ہے وہ ساری زندگی چھڑانی مشکل ہوتی ہیں۔
یعنی بچے کی عمر کا یہ حصہ نہیں بھولتا۔گھر میں خوشگوار ماحول ہونا چاہیے،بچے کے سامنے تیز آواز میں نہیں بولنا چاہیے۔ماں باپ آپس میں غصہ ہوں تو بچے کو بالکل پتہ نہیں لگنے دینا چاہیے۔ماں اور باپ دونوں کو بچے کو برابر توجہ دینی چاہیے۔
چھوٹے بچے کوئی غلط بات کریں تو انہیں پیار سے سمجھائیں۔بچے کے دل میں شروع سے اپنے مذہب سے لگاؤ پیدا کریں بچہ جب بولنا سیکھے تو اسے بسم اللہ اور پہلا کلمہ سکھائیں۔
اسے ہمدردی اور معاف کرنا اور دیگر اچھی باتیں سکھائیں۔وقت پر کھانے پینے کی عادت ڈالیں۔چیزیں جگہ پر رکھنے کی عادت ڈالیں نظم و ضبط کی تربیت شروع سے ہونی چاہیے۔
بچے کے سوالوں کا جواب دیں۔بچے کو خوش اور مطمئن و صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں بچے کی سرگرمیوں میں حصہ لیں بچے کی تعلیم کے سلسلے میں نہ زیادہ نرمی اختیار کریں اور نہ ہی حد سے زیادہ سختی کریں۔بچے کو ٹائم ٹیبل سے وقت گزارنے کی عادت ڈالیں۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں