اچھی تربیت کے لئے بچوں کا مزاج جانیے.

بچے کے رویے کا انحصار کافی حد تک اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں پر ہوتا ہے۔کسی بچے کی پرورش کس نہج پر کی جا رہی ہے۔اس کے گھر اور گرد و پیش کا ماحول کیسا ہے۔اسے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لئے کیا سکھایا گیا ہے۔پیدائش کے چند ماہ بعد ہی بچے کی عادات و اطوار کی بنیاد پڑنے لگتی ہے۔کوئی بچہ خوش باش بچہ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ فکرمند ذہن کا بھی۔
شرارتی بھی ہو سکتا ہے اور حساس بھی۔چند مہینوں کے مشاہدے کے بعد والدین کو اپنے بچے کے رویے کا اندازہ ہو سکتا ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک گھر کے سارے بچے یکساں اور ملتی جلتی عادات کے مالک ہوں،اس لئے سب بچوں سے ان کے اپنے اپنے مزاج کے مطابق پیش آنا ضروری ہے۔کچھ بچے بہت زیادہ توجہ چاہتے ہیں،کچھ آزادی کے خواہاں ہوتے ہیں،کچھ بچوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے،بعض بچے اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں۔

ہر بچے کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے اور والدین کو چاہیے کہ جائزہ لیں کون سا بچہ کیسا ہے․․․․
اگر بچہ زیادہ کھیلتا ہے اور اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں پڑتی،تو بڑے ہو کر بہت ہنس مکھ ہو سکتا ہے۔ایسے بچے بہ آسانی کسی تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں۔اگر کوئی بچہ زیادہ روتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچہ حساس طبیعت کا مالک ہے۔
یہ بچے اردگرد ہونے والی تبدیلیں کو بھی آسانی سے قبول نہیں کرتے،پرانے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں،یا وہ اکثر پرانے ماحول اور پرانی چیزوں کو ہی یاد کرتے رہتے ہیں۔اگر بچے کے مزاج یا عادت میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس سے قبل کہ بچہ سمجھنے کے قابل ہو جائے اور اس کی عادتیں پختہ ہو جائیں والدین کو چاہیے کہ یہ عمل کر ڈالیں۔

ایسا کرتے وقت چند باتوں کا خیال رکھیں،سب سے پہلی بات تو یہ کہ بچے سے صبر و تحمل سے پیش آئیں،اس کی کمزوریوں کو پہچانیں اور بتدریج انہیں درست کریں۔بچے کو نئی چیزوں اور نئے لوگوں سے متعارف کروائیں،جن چیزوں کو وہ ناپسند کرتا ہے اس کا سامنا اسے اکیلے نہ کرنے دیں بلکہ بڑے اس کے ساتھ رہیں،حوصلہ افزائی کو اپنا ہتھیار سمجھیں،بچہ کچھ اچھا کرے تو اس کی تعریف کریں اور انعام بھی دیں،وہ اس بات کو یاد رکھے گا اور پھر دہرانے کی کوشش بھی کرے گا۔

بچے پر والدین کی بھرپور توجہ ہو گی تو اچھی باتیں آہستہ آہستہ اس کی عادت بنتی چلی جائیں گی اور اس کی شخصیت بھی بہتر ہوتی جائے گی۔اگر پہلے سال میں ہی بچے کی شخصیت کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو نہ صرف بچے کی اعلیٰ اخلاقی تربیت ہو سکے گی،بلکہ اس کی تعلیمی کارکردگی بھی مثبت انداز میں آگے بڑھے گی۔جو والدین اپنے بچے کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ جب بچہ پڑھنے بیٹھے تو اس بات کا اطمینان کر لیں کہ اس کے پاس سب ضروری چیزیں موجود رہیں اسے بار بار کسی بھی چیز کے لئے اُٹھنا نہ پڑے تاکہ اس کی توجہ برقرار رہے۔

بچے کے پڑھائی شروع کرنے سے پہلے یہ نوٹ کر لیں کہ بچہ بھوکا تو نہیں ہے۔پڑھتے وقت بچے کو نیند تو نہیں آرہی۔پڑھائی کے دوران اکتاہٹ سے بچنے کے لئے وقفے وقفے سے اس کی دلچسپی برقرار رکھنے کی کوشش کریں،اس کی پسند اور رجحان کے حوالے سے ایسی باتیں کیجیے جو بچے کو اچھی لگیں۔کسی ہدف کو پانے کے لئے اس پر نظر رکھیں کہ بچے کی کارکردگی ہدف کے مطابق ہے کہ نہیں،اگر کسی وجہ سے بچہ پیچھے رہ جاتا ہے تو اسے بتائیں کہ اس میں شرمندگی والی کوئی بات نہیں ہے،اسے بتائیں کہ وہ تھوڑی سی توجہ اور محنت سے اپنی کارکردگی بہتر بنا سکتا ہے اور کلاس کے اچھے طالب علموں کے برابر پہنچ سکتا ہے۔

اپنے بچے کی اچھی تربیت کے حوالے سے اسے یہ بھی بتائیں کہ وہ اسکول میں ایسے بچوں کے ساتھ اُٹھے بیٹھے جو پڑھنے میں اچھے ہیں۔اس کے دوست یا سہیلیاں اچھے بچے ہوں۔اسے سمجھائیں کہ وہ مطالعہ کرنے کی اچھی عادتوں کو اپنائے اور اپنا ایک ہدف مقرر کر لے۔
صحت مند مقابلہ بہتر محرک ہوتا ہے۔اس لئے اس موقع پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔اسے بتائیں کہ ناکامی بھی دراصل کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور محنت کرکے ہار جانے میں کوئی بری بات نہیں۔
انشاء اللہ آئندہ کوشش میں ضرور کامیابی ملے گی۔بچے پر خود بھی بھروسہ رکھیں اور اس کی ہمت بھی نہ ٹوٹنے دیں۔
بچے کی اچھی تربیت کے لئے ایک اچھا محرک اسے سراہنا اور تعریف کرنا ہے،جب کبھی بچہ کچھ اچھا کرے تو اسے شاباشی ضرور دیں،کبھی بھی اپنے بچے کی بے عزتی نہ کریں نہ اسے کمتر ہونے کا احساس دلائیں۔ایسا کرنے سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے گی،تعریف کرنے سے بچے کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور اسے مزید بہتر کارکردگی دکھانے کی تحریک ملے گی۔

پڑھتے ہوئے بچے کا ذہن بہت ساری باتوں کی آماجگاہ بن جائے تو اسے بریک لینے کے لئے کہیں،اسے سب کچھ ایک طرف رکھ کر من پسند کھیل کھیلنے کو کہیں،یا پھر آپ اسے کوئی دلچسپ کہانی یا واقعہ سنائیں۔یاد رکھیں اگر صبر و تحمل کے ساتھ آپ نے بچے کے مزاج کو سمجھ لیا تو بچوں کی اچھی تربیت کرنے میں کامیابی ضرور ملے گی۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں